موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ ، وَالنَّفْخِ فِي الشَّرَابِ باب: چاندی کے برتن میں پینے کی ممانعت اور پانی میں پھونکنے کی ممانعت کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ مَوْلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ : أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو سَعِيدٍ : نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَبِنْ الْقَدَحَ عَنْ فِيكَ ؟ ثُمَّ تَنَفَّسْ "، قَالَ : فَإِنِّي أَرَى الْقَذَاةَ فِيهِ، قَالَ : " فَأَهْرِقْهَا " حضرت ابومثنیٰ جہنی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا مروان بن حکم کے پاس کہ اتنے میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ آئے، مروان نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ منع کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی میں پھونکنے سے؟ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! ایک شخص بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں ایک سانس میں سیر نہیں ہوتا، تو آپ نے فرمایا: ”پیالے کو اپنے منہ سے جدا کر کے سانس لے لیا کر۔“ پھر وہ شخص بولا: میں پانی میں کوڑا دیکھوں تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو بہا دے۔“