حدیث نمبر: 1668
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ قَالَ : " كَانَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ النَّاسِ ضَيَّفَ الضَّيْفَ، وَأَوَّلَ النَّاسِ اخْتَتَنَ، وَأَوَّلَ النَّاسِ قَصَّ الشَّارِبَ، وَأَوَّلَ النَّاسِ رَأَى الشَّيْبَ، فَقَالَ : يَا رَبِّ مَا هَذَا ؟ فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : وَقَارٌ يَا إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ : يَا رَبِّ زِدْنِي وَقَارًا " .
علامہ وحید الزماں

حضرت سعید مسیّب نے کہا کہ ابراہیم علیہ السلام ہی نے سب سے پہلے مہمان کی ضیافت کی، اور سب سے پہلے ختنہ کیا، اور سب سے پہلے مونچھیں کتریں، اور سب سے پہلے سفید بال کو دیکھ کر کہا: ”اے پروردگار! یہ کیا ہے؟“ اللہ جل جلالہُ نے فرمایا: ”یہ عزت اور وقار ہے۔“ ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ”تو اے پروردگار! زیادہ عزت دے مجھ کو۔“

قَالَ يَحْيَى : وَسَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ : يُؤْخَذُ مِنَ الشَّارِبِ حَتَّى يَبْدُوَ طَرَفُ الشَّفَةِ وَهُوَ الْإِطَارُ، وَلَا يَجُزُّهُ فَيُمَثِّلُ بِنَفْسِهِ
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مونچھوں کو اتنا کترنا چاہیے کہ ہونٹ کے کنارے کھل جائیں، یہ نہیں کہ بالکل کتر ڈالے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1668
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 20245، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 5640، 5642، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 26997، و بخاري فى «الادب المفرد» برقم: 1250، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 4»