موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي إِسْبَالِ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ باب: کپڑا بے کار لٹکانے کا بیان
حدیث نمبر: 1657
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، عَنِ الْإِزَارِ، فَقَالَ : أَنَا أُخْبِرُكَ بِعِلْمٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ، مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ، لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا " علامہ وحید الزماں
حضرت عبدالرحمٰن بن یعقوب سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا ازار کا حال؟ انہوں نے کہا: مجھے علم ہے میں بتاتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”مومن کی ازار پنڈلیوں تک ہوتی ہے، خیر ٹخنوں تک بھی رکھے تو کچھ قباحت نہیں ہے، اس سے نیچے جہنم میں جانے کی بات ہے، اس سے نیچے جہنم میں جانے کی بات ہے، اللہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف نظر نہ کرے گا جو اپنی ازار لٹکائے غرور اور گھمنڈ کے طور پر۔“