موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا يُكْرَهُ لِلنِّسَاءِ لُبْسُهُ مِنَ الثِّيَابِ باب: جو کپڑا عورتوں کو پہننا مکروہ ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1653
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَنَظَرَ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ، فَقَالَ : " مَاذَا فُتِحَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْخَزَائِنِ ؟ وَمَاذَا وَقَعَ مِنَ الْفِتَنِ ؟ كَمْ مِنْ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ أَيْقِظُوا صَوَاحِبَ الْحُجَرِ " علامہ وحید الزماں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے اور آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”رات کو اللہ جل جلالہُ نے کتنے ایک خزانے کھولے، اور کتنے ایک فتنے واقع ہوئے، کتنی عورتیں ایسی ہیں جو دینا میں تو کپڑے پہنے ہوئی ہیں مگر قیامت کے روز ننگی ہوں گی، ہوشیار کر دو ان کوٹھڑیوں والیوں کو۔“