موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُهَاجَرَةِ باب: ملاقات ترک کرنے کے بیان میں
حدیث نمبر: 1644
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ : أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا " علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں پیر اور جمعرات کے روز، تو ہر بندہ مسلمان جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا وہ بخش دیا جاتا ہے، مگر وہ شخص جو اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہو۔ کہا جاتا ہے ان دونوں آدمیوں کے متعلق کہ ان دونوں آدمیوں کو دیکھتے رہو جب تک وہ مل جائیں، ان دونوں آدمیوں کو دیکھتے رہو جب تک وہ مل جائیں۔“ (یعنی جب تک آپس میں ملاپ نہ کریں ان کی مغفرت نہیں ہوتی)۔