موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْقَوْلِ بِالْقَدَرِ باب: تقدیر میں گفتگو کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1623
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَقَالَ : " مَا رَأْيُكَ فِي هَؤُلَاءِ الْقَدَرِيَّةِ ؟ فَقُلْتُ : رَأْيِي أَنْ تَسْتَتِيبَهُمْ فَإِنْ تَابُوا وَإِلَّا عَرَضْتَهُمْ عَلَى السَّيْفِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : " وَذَلِكَ رَأْيِي " . قَالَ مَالِك : وَذَلِكَ رَأْيِيعلامہ وحید الزماں
حضرت ابوسہیل بن مالک، عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ جا رہے تھے، انہوں نے پوچھا ابوسہیل سے کہ: تمہاری کیا رائے ہے قدریہ کے بارے میں؟ ابوسہیل نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ ان سے توبہ کراؤ، توبہ کر لیں تو بہتر، نہیں تو قتل کئے جائیں۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا: میری رائے بھی یہی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: میری بھی یہی رائے ہے ان لوگوں کے بارے میں۔