موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْقَوْلِ بِالْقَدَرِ باب: تقدیر میں گفتگو کرنے کی ممانعت کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَحَاجَّ آدَمُ، وَمُوسَى فَحَجَّ آدَمُ، مُوسَى، قَالَ لَهُ مُوسَى : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَى الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عِلْمَ كُلِّ شَيْءٍ وَاصْطَفَاهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَتِهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ، قَالَ : أَفَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ ؟ " سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بحث کی آدم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) نے، تو غالب ہوئے آدم (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) پر۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: تو وہی آدم (علیہ السلام) ہے کہ گمراہ کیا تو نے لوگوں کو، اور نکالا ان کو جنت سے۔ آدم (علیہ السلام) نے کہا: تو وہی موسیٰ (علیہ السلام) ہے کہ اللہ نے تجھے علم دیا ہر چیز کا، اور برگزیدہ کیا رسالت سے۔ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر آدم (علیہ السلام) نے کہا: باوجود اس کے تو مجھے ملامت کرتا ہے ایسے کام پر جو میری تقدیر میں لکھا جا چکا تھا، قبل میرے پیدا ہونے کے۔“