موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالْخُرُوجِ مِنْهَا باب: مدینہ میں رہنے کا بیان اور مدنہ سے نکلنے کا بیان
حدیث نمبر: 1600
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ حِمَاسٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَتُتْرَكَنَّ الْمَدِينَةُ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَتْ، حَتَّى يَدْخُلَ الْكَلْبُ أَوِ الذِّئْبُ فَيُغَذِّي عَلَى بَعْضِ سَوَارِي الْمَسْجِدِ أَوْ عَلَى الْمِنْبَرِ "، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلِمَنْ تَكُونُ الثِّمَارُ ذَلِكَ الزَّمَانَ ؟ قَالَ : " لِلْعَوَافِي : الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ " علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”البتہ تم چھوڑ دو گے مدینہ کو اچھے حال میں یہاں تک کہ آئے گا اس میں کتا یا بھیڑیا تو پیشاب کیا کرے گا مسجد کے کھمبوں یا منبر پر۔“ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس زمانے میں مدینہ کے پھلوں کو کون کھائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جانور بھوکے ہوں گے پرندے اور درندے۔“