موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے بیان میں
بَابُ قَدْرِ السُّحُورِ مِنَ النِّدَاءِ باب: اذان کا سحری کے وقت ہونا
حدیث نمبر: 160
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " . قَالَ : وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلًا أَعْمَى لَا يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ : أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَعلامہ وحید الزماں
حضرت سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال اذان دیتا ہے رات کو تو کھایا پیا کرو جب تک اذان نہ دے بیٹا اُم مکتوم کا۔“ کہا ابن شہاب نے یا سالم نے یا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ تھا بیٹا اُم مکتوم کا اندھا، اذان نہ دیتا تھا جب لوگ اس سے نہ کہتے تھے صبح ہوگئی صبح ہوگئی۔