موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالْخُرُوجِ مِنْهَا باب: مدینہ میں رہنے کا بیان اور مدنہ سے نکلنے کا بیان
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ : أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ : أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى، فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا " الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبُهَا " سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے بیعت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر، اس کو بخار آنے لگا مدینہ میں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری بیعت توڑ دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا۔ پھر آیا اور کہا: میری بیعت توڑ دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا۔ پھر آیا اور کہا: میری بیعت توڑ دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا۔ وہ مدینہ سے نکل گیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ مثل دھونکنی یا کھریا (بھٹی) کے ہے کہ جو میل نکال دیتی ہے اور خالص کندن رکھ لیتی ہے۔