موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَدِينَةِ وَأَهْلِهَا باب: مدینہ کے واسطے اور مدینہ کے رہنے والوں کے واسطے دعا کا بیان
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَاءُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ بِهِ لِمَكَّةَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ "، ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ يَرَاهُ فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگ پہلا میوہ دیکھتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو لے کر فرماتے: ”اے پروردگار! برکت دے ہمارے پھلوں میں، اور برکت دے ہمارے شہر میں، اور برکت دے ہمارے صاع میں، اور برکت دے ہمارے مد میں، اے پروردگار! ابراہیم (علیہ السلام) نے جو تیرے بندے، اور تیرے دوست، اور تیرے نبی تھے، دعا کی تھی مکّہ کے واسطے، اور میں دعا کرتا ہوں تجھ سے مدینہ کے واسطے، اور میں تیرا بندہ ہوں اور نبی ہوں، جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی مکّہ کے لئے، اور اتنی اور اس کے ساتھ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے چھوٹے بچے کو جو موجود ہوتا بلاتے اور وہ میوہ اس کو دے دیتے۔