موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الأشربة— کتاب: اشیائے نو ش کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ باب: شراب کی حرمت کے مختلف مسائل
حدیث نمبر: 1592
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالُوا لَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نَبْتَاعُ مِنْ ثَمَرِ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ فَنَعْصِرُهُ خَمْرًا فَنَبِيعُهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتَهُ وَمَنْ سَمِعَ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، أَنِّي لَا آمُرُكُمْ أَنْ تَبِيعُوهَا وَلَا تَبْتَاعُوهَا وَلَا تَعْصِرُوهَا وَلَا تَشْرَبُوهَا وَلَا تَسْقُوهَا، فَإِنَّهَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ " علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی عنہما سے روایت ہے کہ ان سے عراق کے لوگوں نے کہا: ہم کھجور اور انگور کے پھل خریدتے ہیں، پھر اس کی شراب بنا کر بیچتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں گواہ کرتا ہوں اللہ کو، اور فرشتوں کو، اور جو سنتے ہیں جن اور آدمی کہ میں اجازت نہیں دیتا تم کو بیچنے کی، نہ خریدنے کی، نہ نچوڑنے کی، نہ پینے کی، نہ پلانے کی، کیونکہ شراب پلید ہے، شیطان کا کام ہے۔