موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الأشربة— کتاب: اشیائے نو ش کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ باب: شراب کی حرمت کے مختلف مسائل
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ قَدِمَ الشَّامَ شَكَا إِلَيْهِ أَهْلُ الشَّامِ وَبَاءَ الْأَرْضِ وَثِقَلَهَا، وَقَالُوا : لَا يُصْلِحُنَا إِلَّا هَذَا الشَّرَابُ، فَقَالَ عُمَرُ : " اشْرَبُوا هَذَا الْعَسَلَ "، قَالُوا : لَا يُصْلِحُنَا الْعَسَلُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ : هَلْ لَكَ أَنْ نَجْعَلَ لَكَ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ شَيْئًا لَا يُسْكِرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ، فَطَبَخُوهُ حَتَّى ذَهَبَ مِنْهُ الثُّلُثَانِ وَبَقِيَ الثُّلُثُ، فَأَتَوْا بِهِ عُمَرَ فَأَدْخَلَ فِيهِ عُمَرُ إِصْبَعَهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ فَتَبِعَهَا يَتَمَطَّطُ، فَقَالَ : " هَذَا الطِّلَاءُ هَذَا مِثْلُ طِلَاءِ الْإِبِلِ "، فَأَمَرَهُمْ عُمَرُ أَنْ يَشْرَبُوهُ، فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ : أَحْلَلْتَهَا وَاللَّهِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : " كَلَّا وَاللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ شَيْئًا حَرَّمْتَهُ عَلَيْهِمْ، وَلَا أُحَرِّمُ عَلَيْهِمْ شَيْئًا أَحْلَلْتَهُ لَهُمْ " محمود بن لبید انصاری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب شام کی طرف آئے تو لوگوں نے وبا اور آب و ہوا کے بھاری ہونے کا بیان کیا اور کہا: بغیر اس شراب کے ہمارا مزاج اچھا نہیں رہتا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: شہد پیو۔ انہوں نے کہا: شہد موافق نہیں۔ ایک شخص بولا: ہم اسی کو اس طرح تیار کریں جس میں نشہ نہ ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ انہوں نے اس کو پکایا اتنا کہ ایک تہائی رہ گیا دو تہائی جل گیا، اس کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لائے، انہوں نے انگلی ڈالی، جب وہ چَپ چَپ کرنے لگا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ طلا تو اونٹ کے طلا کے مشابہ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے پینے کی اجازت دی۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے حلال کر دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! یا اللہ! میں نے کبھی اس چیز کو حلال نہیں کیا جس کو تو نے حرام کیا، اور نہ حرام کیا جس کو تو نے حلال کیا۔