موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الأشربة— کتاب: اشیائے نو ش کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ باب: شراب کی حرمت کے مختلف مسائل
حدیث نمبر: 1590
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، وَأَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ وَتَمْرٍ، قَالَ : فَجَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ : إِنَّ " الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ "، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا أَنَسُ قُمْ إِلَى هَذِهِ الْجِرَارِ فَاكْسِرْهَا، قَالَ : فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى تَكَسَّرَتْ علامہ وحید الزماں
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوعیبد بن جراح اور سیدنا ابوطلحہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو شراب پلایا کرتا تھا گدر کھجور اور خشک کھجور کی، اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا: شراب حرام ہوگئی۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے انس! اٹھو گھڑے پھوڑ دو۔ میں اٹھا اور موسل سے مار کر سب گھڑوں کو پھوڑ دیا۔