موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الأشربة— کتاب: اشیائے نو ش کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَدِّ الْخَمْرِ باب: خمر کی حد کا بیان
حدیث نمبر: 1578
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ : " إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلَانٍ رِيحَ شَرَابٍ، فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرَابُ الطِّلَاءِ، وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ، فَإِنْ كَانَ يُسْكِرُ جَلَدْتُهُ " . فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ تَامًّا علامہ وحید الزماں
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نکلے اور کہا: میں نے فلانے (عبیداللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے) کے منہ سے شراب کی بو پائی، وہ کہتا ہے میں نے طلا (انگور کے شیرے کو اتنا پکایا جائے کہ وہ گاڑھا ہو جائے، مثلاً دو تہائی جل جائے ایک تہائی رہ جائے) پی، اور میں پوچھتا ہوں کہ اگر اس میں نشہ ہے تو اس کو حد ماروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو پوری حد لگائی۔