موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب السرقة— کتاب: چوری کے بیان میں
بَابُ تَرْكِ الشَّفَاعَةِ لِلسَّارِقِ إِذَا بَلَغَ السُّلْطَانَ باب: جب چور حاکم تک پہنچ جائے پھر اس کی سفارش نہیں کرنی چاہیے
حدیث نمبر: 1571
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ لَقِيَ رَجُلًا قَدْ أَخَذَ سَارِقًا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِهِ إِلَى السُّلْطَانِ، فَشَفَعَ لَهُ الزُّبَيْرُ لِيُرْسِلَهُ، فَقَالَ : لَا، حَتَّى أَبْلُغَ بِهِ السُّلْطَانَ . فَقَالَ الزُّبَيْرُ : " إِذَا بَلَغْتَ بِهِ السُّلْطَانَ، فَلَعَنَ اللَّهُ الشَّافِعَ وَالْمُشَفِّعَ " علامہ وحید الزماں
حضرت ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ چور کو پکڑے ہوئے حاکم کے پاس لئے جاتا تھا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سفارش کی، کہا: چھوڑ دے، وہ بولا: کبھی نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ حاکم کے پاس نہ لے جاؤں گا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تو حاکم کے پاس لے گیا تو اللہ کی لعنت سفارش کرنے والے پر اور سفارش ماننے والے پر۔