موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب السرقة— کتاب: چوری کے بیان میں
بَابُ تَرْكِ الشَّفَاعَةِ لِلسَّارِقِ إِذَا بَلَغَ السُّلْطَانَ باب: جب چور حاکم تک پہنچ جائے پھر اس کی سفارش نہیں کرنی چاہیے
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، قِيلَ لَهُ : إِنَّهُ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ . فَقَدِمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ، فَجَاءَ سَارِقٌ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ، فَأَخَذَ صَفْوَانُ السَّارِقَ فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسَرَقْتَ رِدَاءَ هَذَا ؟ " قَالَ : نَعَم . فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ " . فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ : إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ " حضرت صفوان بن عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ سے کسی نے کہا کہ جس نے ہجرت نہیں کی تو وہ تباہ ہوا، تو صفوان مدینہ میں آئے اور مسجد نبوی میں اپنی چادر سر کے تلے رکھ کر سو رہے، چور آیا اور چادر ان کی لے گیا، صفوان نے اٹھ کر چور کو گرفتار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چور سے پوچھا: ”کیا تو نے صفوان کی چادر چرائی؟“ وہ بولا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم کیا۔ صفوان نے کہا: میری نیت یہ نہ تھی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ چادر تو اس پر صدقہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ کو یہ امر میرے پاس لانے سے پہلے کرنا تھا۔“