موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے بیان میں
بَابُ النِّدَاءِ فِي السَّفَرِ وَعَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ باب: سفر میں اور بےوضو اذان کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 157
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ لَهُ : " إِذَا كُنْتَ فِي سَفَرٍ ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤَذِّنَ وَتُقِيمَ فَعَلْتَ ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَقِمْ وَلَا تُؤَذِّنْ " . ¤ قَالَ يَحْيَى : سَمِعْتُ مَالِكًا ، يَقُولُ : لَا بَأْسَ أَنْ يُؤَذِّنَ الرَّجُلُ وَهُوَ رَاكِبٌعلامہ وحید الزماں
حضرت ہشام بن عروہ سے ان کے باپ نے کہا کہ جب تو سفر میں ہو تو تجھے اختیار ہے چاہے اذان یا اقامت دونوں کہہ یا فقط اقامت کہہ اور اذان نہ دے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سوار ہو کر اذان دینے میں کچھ قباحت نہیں ہے۔