موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب السرقة— کتاب: چوری کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَطْعِ الْآبِقِ وَالسَّارِقِ باب: جو غلام بھاگ جائے پھر چوری کرے اس کے ہاتھ کاٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 1569
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، كَانُوا يَقُولُونَ : " إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ الْآبِقُ مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ، قُطِعَ " .علامہ وحید الزماں
حضرت قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ اور عروہ بن زبیر کہتے تھے: بھاگا ہوا غلام جب اس قدر چرائے جس میں ہاتھ کاٹنا واجب ہوتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
قَالَ مَالِك : وَذَلِكَ الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا، أَنَّ الْعَبْدَ الْآبِقَ إِذَا سَرَقَ مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ، قُطِعَعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے۔