موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحدود— کتاب: حدوں کے بیان میں
بَابُ الْحَدِّ فِي الْقَذْفِ وَالنَّفْيِ وَالتَّعْرِيضِ باب: حد قذف کا اور نفی نسب کا اور اشارے کنائے میں دوسرے کو گالی دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1559
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ قَذَفَ قَوْمًا جَمَاعَةً : " أَنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا حَدٌّ وَاحِدٌ " .علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر نے کہا کہ جو شخص بہت سے آدمیوں پر ایک ہی قول میں زنا کی تہمت لگائے (مثلاً ان آدمیوں کو پکارے: اے زانیو! یا یوں کہے کہ تم زانی ہو) تو اس پر ایک ہی حد پڑے گی۔ (یعنی صرف اسّی کوڑے)۔
قَالَ مَالِك : وَإِنْ تَفَرَّقُوا، فَلَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا حَدٌّ وَاحِدٌعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر وہ لوگ جدا جدا ہو جائیں جب بھی ایک ہی حد پڑے گی۔