موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحدود— کتاب: حدوں کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجْمِ باب: رجم (سنگسار) کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ. وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ. وَائْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَ: «تَكَلَّمْ» فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا. فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ. فَأَخْبَرَنِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ. فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي. ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي: أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ. وَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ» وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً. وَغَرَّبَهُ عَامًا وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ. فَإِنِ اعْتَرَفَتْ، رَجَمَهَا. فَاعْتَرَفَتْ. فَرَجَمَهَا ¤قَالَ مَالِكٌ: وَالْعَسِيفُ الْأَجِيرُسیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو شخصوں نے جھگڑا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔ ایک بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ فیصلہ کیجیے ہمارا موافق کتاب اللہ کے، اور دوسرا شخص جو زیادہ سمجھدار تھا وہ بولا: ہاں یا رسول اللہ! فیصلہ کیجیےموافق کتاب اللہ کے اور اجازت دیجیے مجھے بات کرنے کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا بولو۔“ اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کے ہاں نوکر تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا، لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تیرے بیٹے پر رجم ہے، میں نے سو بکریاں اس کی طرف سے فدیہ دیں اور ایک لونڈی دی، پھر میں نے اہلِ علم سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے ہیں، اور ایک برس جلا وطنی، اور رجم اس کی عورت پر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے موافق کرتا ہوں، تیری بکریاں اور لونڈی تیرا مال ہے اس کو لے لے۔“ اور اس کے بیٹے کو سو کوڑے مارنے کا حکم کیا، اور ایک برس تک جلا وطن کیا، اور حکم کیا انیس اسلمی کو کہ دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جا، اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اس کو رجم کر۔ اس نے زنا کا اقرار کیا، وہ رجم کی گئی۔