موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحدود— کتاب: حدوں کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجْمِ باب: رجم (سنگسار) کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَقَالَ لَهُ : إِنَّ الْأَخِرَ زَنَى . فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : هَلْ ذَكَرْتَ هَذَا لِأَحَدٍ غَيْرِي ؟ فَقَالَ : لَا . فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : فَتُبْ إِلَى اللَّهِ وَاسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ . فَلَمْ تُقْرِرْهُ نَفْسُهُ حَتَّى أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مِثْلَ مَا قَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمْ تُقْرِرْهُ نَفْسُهُ حَتَّى جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ : إِنَّ الْأَخِرَ زَنَى . فَقَالَ سَعِيدٌ : فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا أَكْثَرَ عَلَيْهِ، بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ : " أَيَشْتَكِي، أَمْ بِهِ جِنَّةٌ ؟ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَحِيحٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ ؟ " فَقَالُوا : بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُجِمَ حضرت سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ ایک شخص اسلم کے قبیلے کا (جس کا نام ماعز بن مالک تھا) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ اس نالائق نے (اپنی طرف اشارہ کر کے) زنا کیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے یہ بات اور کسی سے تو بیان نہیں کی؟ بولا: نہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: تو توبہ کر اللہ سے، اور چھپا رہ اللہ کے پردے میں (یعنی کسی سے بیان نہ کر)،کیونکہ اللہ جل جلالہُ توبہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں کی۔ اس کو تسکین نہ ہوئی، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کہا جیسا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی وہی جواب دیا۔ پھر بھی اس کو تسکین نہ ہوئی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اس نالائق نے زنا کیا، تین بار اس نے کہا اور تینوں بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ جب بہت اس نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”کیا یہ بیمار ہوگیا ہے یا اس کو جنون (پاگل پن) ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ تندرست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا نکاح ہوا ہے یا نہیں؟“ لوگوں نے کہا: ہوا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا اس کو سنگسار کرنے کا، وہ سنگسار کر دیا گیا۔