موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحدود— کتاب: حدوں کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجْمِ باب: رجم (سنگسار) کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَتْ الْيَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ ؟ " فَقَالُوا : نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : كَذَبْتُمْ، إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ . فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ، فَنَشَرُوهَا، فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، ثُمَّ قَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : ارْفَعْ يَدَكَ . فَرَفَعَ يَدَهُ، فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، فَقَالُوا : صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ، فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُجِمَا . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَحْنِي عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ .¤ قَالَ مَالِك : يَعْنِي يَحْنِي يُكِبُّ عَلَيْهَا حَتَّى تَقَعَ الْحِجَارَةُ عَلَيْهِسیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بیان کیا کہ ہم میں سے ایک مرد اور عورت نے زنا کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تورات میں کیا حکم ہے رجم کا؟“ یہودیوں نے کہا: ہم میں جو کوئی زنا کرے اس کو ہم رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مارتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو، تورات میں رجم ہے، لاؤ تم تورات کو پڑھو اس کو۔ انہوں نے تورات کو کھولا اور ایک شخص نے ان میں سے اپنا ہاتھ رجم کی آیت پر رکھ لیا، اور اس کے اول اور آخر کی آیتیں پڑھیں۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اپنا ہاتھ اٹھا، اس نے جو ہاتھ اٹھایا تو رجم کی آیت نکلی، تب سب یہودی کہنے لگے کہ سچ کہا سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے، آیت رجم کی موجود ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا رجم کا، تو وہ مرد اور عورت رجم کئے گئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے مرد کو دیکھا کہ وہ عورت کی طرف جھکتا تھا اس کو بچانے کو پتھروں سے۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: یعنی عورت کے اوپر آجاتا تھا تاکہ پتھر اپنے اوپر پڑیں، عورت پر نہ پڑیں۔