موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العقول— کتاب: دیتوں کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْعَقْلِ وَالتَّغْلِيظِ فِيهِ باب: دیت میں میراث کا بیان
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أُحَيْحَةُ بْنُ الْجُلَاحِ كَانَ لَهُ عَمٌّ صَغِيرٌ، هُوَ أَصْغَرُ مِنْ أُحَيْحَةَ، وَكَانَ عِنْدَ أَخْوَالِهِ فَأَخَذَهُ أُحَيْحَةُ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ أَخْوَالُهُ : كُنَّا أَهْلَ ثُمِّهِ وَرُمِّهِ حَتَّى إِذَا اسْتَوَى عَلَى عُمَمِهِ غَلَبَنَا حَقُّ امْرِئٍ فِي عَمِّهِ، قَالَ عُرْوَةُ : " فَلِذَلِكَ لَا يَرِثُ قَاتِلٌ مَنْ قَتَلَ " .حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ایک شخص انصار کا جس کا نام اُحیحہ بن جلاح تھا، اس سے چھوٹا چچا تھا، وہ اپنی ننہیال میں تھا، اس کو اُحیحہ نے لے کر مار ڈالا، اس کے ننہیال کے لوگوں نے کہا: ہم نے پالا، پرورش کیا، جب جوان ہوا تو اس کا بھتیجا ہم پر غالب آیا، اور اسی نے لے لیا۔ عروہ نے کہا: اسی وجہ سے (اب دینِ اسلام میں) قاتل مقتول کا وارث نہیں ہوتا۔
قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا، أَنَّ قَاتِلَ الْعَمْدِ لَا يَرِثُ مِنْ دِيَةِ مَنْ قَتَلَ شَيْئًا وَلَا مِنْ مَالِهِ، وَلَا يَحْجُبُ أَحَدًا وَقَعَ لَهُ مِيرَاثٌ، وَأَنَّ الَّذِي يَقْتُلُ خَطَأً لَا يَرِثُ مِنَ الدِّيَةِ شَيْئًا، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي أَنْ يَرِثَ مِنْ مَالِهِ لِأَنَّهُ لَا يُتَّهَمُ عَلَى أَنَّهُ قَتَلَهُ لِيَرِثَهُ وَلِيَأْخُذَ مَالَهُ، فَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَرِثَ مِنْ مَالِهِ وَلَا يَرِثُ مِنْ دِيَتِهِامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ قتلِ عمد کرنے والا مقتول کی دیت کا وارث نہیں ہوتا، نہ اس کے مال کا، نہ وہ کسی وارث کو محروم کر سکتا ہے، اور قتلِ خطاء کرنے والا دیت کا وارث نہیں ہوتا، لیکن اور مال کا وارث ہوتا ہے یا نہیں، اس میں اختلاف ہے، میرے نزدیک اور مال کا وارث ہوگا۔