موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العقول— کتاب: دیتوں کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْعَقْلِ وَالتَّغْلِيظِ فِيهِ باب: دیت میں میراث کا بیان
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ , أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ سُئِلَا أَتُغَلَّظُ الدِّيَةُ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ؟ فَقَالَا : " لَا وَلَكِنْ يُزَادُ فِيهَا لِلْحُرْمَةِ "، فَقِيلَ لِسَعِيدٍ : هَلْ " يُزَادُ فِي الْجِرَاحِ كَمَا يُزَادُ فِي النَّفْسِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ " .حضرت سعید بن مسیّب اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ ماہِ حرام میں (محرم اور رجب اور ذیقعدہ اور ذی الحجہ میں) اگر کوئی قتل کرے تو دیت میں سختی کریں گے؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ بڑھا دیں گے، بوجہ ان مہینوں کی حرمت کے۔ پھر سعید سے پوچھا: اگر کوئی زخمی کرے ان مہینوں میں تو اس کی بھی دیت بڑھا دیں گے، جیسے قتل کی دیت بڑھا دیں گے؟ سعید نے کہا: ہاں۔
قَالَ مَالِك : أُرَاهُمَا أَرَادَا مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عَقْلِ الْمُدْلِجِيِّ حِينَ أَصَابَ ابْنَهُامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ مراد ان دونوں صاحبوں کی بڑھانے سے وہی ہے جیسا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کیا مدلجی کی دیت میں، جب اس نے اپنے بیٹے کو مار ڈالا۔