موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العقول— کتاب: دیتوں کے بیان میں
بَابُ مَا يُوجِبُ الْعَقْلَ عَلَى الرَّجُلِ فِي خَاصَّةِ مَالِهِ باب: جن جنایات کی دیت خاص قاتل کو اپنے مال میں سے ادا کرنی پڑتی ہے (یعنی عاقلہ سے نہیں لی جاتی) ان کا بیان
حدیث نمبر: 1524
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ الْعَاقِلَةَ لَا تَحْمِلُ شَيْئًا مِنْ دِيَةِ الْعَمْدِ إِلَّا أَنْ يَشَاءُوا ذَلِكَ " .علامہ وحید الزماں
حضرت ابن شہاب نے کہا کہ عاقلہ پر عمداً خون کرنے کا بار نہیں ڈالا جاتا، مگر خوشی سے دینا چاہیں۔