موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العقول— کتاب: دیتوں کے بیان میں
بَابُ مَا يُوجِبُ الْعَقْلَ عَلَى الرَّجُلِ فِي خَاصَّةِ مَالِهِ باب: جن جنایات کی دیت خاص قاتل کو اپنے مال میں سے ادا کرنی پڑتی ہے (یعنی عاقلہ سے نہیں لی جاتی) ان کا بیان
حدیث نمبر: 1523
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " لَيْسَ عَلَى الْعَاقِلَةِ عَقْلٌ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ، إِنَّمَا عَلَيْهِمْ عَقْلُ قَتْلِ الْخَطَإِ " علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ قتلِ عمد میں عاقلہ پر دیت نہیں ہے (بلکہ قاتل کی ذات پر ہے)، عاقلہ پر خطاء کی دیت ہے۔ (عاقلہ کی یعنی کسی کی طرف سے ادا کرنے والا)۔