موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العقول— کتاب: دیتوں کے بیان میں
بَابُ الْعَمَلِ فِي عَقْلِ الْأَسْنَانِ باب: دانتوں کی دیت کا اور حال
حدیث نمبر: 1518
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ " يُسَوِّي بَيْنَ الْأَسْنَانِ فِي الْعَقْلِ وَلَا يُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ " .علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ اگلے زمانے میں سب دانتوں کی دیت برابر تھی، کوئی دوسرے پر زیادہ نہ تھی۔
قَالَ مَالِك : وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ مُقَدَّمَ الْفَمِ وَالْأَضْرَاسِ وَالْأَنْيَابِ عَقْلُهَا سَوَاءٌ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي السِّنِّ : " خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ "، وَالضِّرْسُ سِنٌّ مِنَ الْأَسْنَانِ، لَا يَفْضُلُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ دانت اور کچلیاں اور داڑھیں سب برابر ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت میں پانچ اونٹ کا حکم کیا، داڑھ بھی ایک دانت ہے۔