موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العقول— کتاب: دیتوں کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ عَقْلِ الْأَسْنَانِ باب: دانتوں کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 1515
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: «قَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي الْأَضْرَاسِ بِبَعِيرٍ بَعِيرٍ»، وَقَضَى مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ فِي الْأَضْرَاسِ بِخَمْسَةِ أَبْعِرَةٍ خَمْسَةِ أَبْعِرَةٍ. قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: «فَالدِّيَةُ تَنْقُصُ فِي قَضَاءِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَتَزِيدُ فِي قَضَاءِ مُعَاوِيَةَ، فَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَجَعَلْتُ فِي الْأَضْرَاسِ بَعِيرَيْنِ بَعِيرَيْنِ، فَتِلْكَ الدِّيَةُ سَوَاءٌ، وَكُلُّ مُجْتَهِدٍ مَأْجُورٌ»علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہر ڈاڑھ میں ایک اونٹ کا حکم کیا، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہر ڈاڑھ میں پانچ اونٹ کا حکم کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیت میں کمی کی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیادتی کی۔ اگر میں ہوتا تو ہر ڈاڑھ میں دو دو اونٹ دلاتا، اس صورت میں دیت پوری ہو جاتی۔