حدیث نمبر: 1508
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، كَانَ يَقُولُ فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ إِذَا طَفِئَتْ : " مِائَةُ دِينَارٍ " .
علامہ وحید الزماں

حضرت زید بن ثابت کہتے تھے کہ جب آنکھ قائم رہے، اور روشنی جاتی رہے، تو سو دینار ہوں گے۔

قَالَ مَالِكٌ عَنْ شَتَرِ الْعَيْنِ، وَحِجَاجِ الْعَيْنِ : لَيْسَ فِي ذَلِكَ إِلَّا الِاجْتِهَادُ إِلَّا أَنْ يَنْقُصَ بَصَرُ الْعَيْنِ، فَيَكُونُ لَهُ بِقَدْرِ مَا نَقَصَ مِنْ بَصَرِ الْعَيْنِ. ¤
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کوئی کسی کی آنکھ کا پپوٹا کاٹ ڈالے، یا آنکھ کے گرد جو ہڈی کا حلقہ ہے اس کو کاٹ ڈا لے، تو اس میں فکر کریں گے، اگر بینائی جاتی رہے تو اس سے نقصان کے موافق دیت دینی ہوگی۔

قَالَ مَالِكٌ : الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ الْعَوْرَاءِ، إِذَا طَفِئَتْ، وَفِي الْيَدِ الشَّلَّاءِ إِذَا قُطِعَتْ، إِنَّهُ لَيْسَ فِي ذَلِكَ إِلَّا الِاجْتِهَادُ، وَلَيْسَ فِي ذَلِكَ عَقْلٌ مُسَمًّى.
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک شخص کی آنکھ قائم تھی مگر اس میں بینائی نہ تھی، اس کو کسی نے پھوڑ ڈالا، یا جو ہاتھ شل تھا اس کو کاٹ ڈالا تودیت لازم نہ آئے گی، بلکہ لوگوں کی رائے سے جو مناسب ہوگا دلوائیں گے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب العقول / حدیث: 1508
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16328، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17443، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 27049، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 6ق4»