موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العقول— کتاب: دیتوں کے بیان میں
بَابُ عَقْلِ الْمَرْأَةِ باب: عورت کی دیت کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ : " مَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَصَابَ امْرَأَتَهُ بِجُرْحٍ أَنَّ عَلَيْهِ عَقْلَ ذَلِكَ الْجُرْحِ وَلَا يُقَادُ مِنْهُ " .حضرت ابن شہاب کہتے تھے کہ یہ سنّت چلی آتی ہے کہ مرد اپنی عورت کو اگر زخمی کرے تو اس سے دیت لی جائے گی، اور قصاص نہ لیا جائے گا۔
قَالَ مَالِك : وَإِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْخَطَإِ، أَنْ يَضْرِبَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَيُصِيبَهَا مِنْ ضَرْبِهِ مَا لَمْ يَتَعَمَّدْ، كَمَا يَضْرِبُهَا بِسَوْطٍ فَيَفْقَأُ عَيْنَهَا وَنَحْوَ ذَلِكَ .امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ جب ہے کہ مرد خطاء سے اپنی عورت کو زخمی کرے، عمداً یہ کام نہ کرے (اگر عمداً کرے تو قصاص واجب ہوگا)۔
قَالَ مَالِك، فِي الْمَرْأَةِ يَكُونُ لَهَا زَوْجٌ وَوَلَدٌ مِنْ غَيْرِ عَصَبَتِهَا وَلَا قَوْمِهَا : فَلَيْسَ عَلَى زَوْجِهَا إِذَا كَانَ مِنْ قَبِيلَةٍ أُخْرَى مِنْ عَقْلِ جِنَايَتِهَا شَيْءٌ، وَلَا عَلَى وَلَدِهَا إِذَا كَانُوا مِنْ غَيْرِ قَوْمِهَا، وَلَا عَلَى إِخْوَتِهَا مِنْ أُمِّهَا إِذَا كَانُوا مِنْ غَيْرِ عَصَبَتِهَا، وَلَا قَوْمِهَا فَهَؤُلَاءِ أَحَقُّ بِمِيرَاثِهَا، وَالْعَصَبَةُ عَلَيْهِمُ الْعَقْلُ مُنْذُ زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَوْمِ، وَكَذَلِكَ مَوَالِي الْمَرْأَةِ مِيرَاثُهُمْ لِوَلَدِ الْمَرْأَةِ وَإِنْ كَانُوا مِنْ غَيْرِ قَبِيلَتِهَا، وَعَقْلُ جِنَايَةِ الْمَوَالِي عَلَى قَبِيلَتِهَاامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس عورت کا خاوند یا لڑکا اس کی قوم سے نہ ہو تو عورت کی جنایت کی دیت میں وہ شریک نہ ہوگا، اسی طرح اس کا لڑکا یا اخیانی بھائی جب اور قوم سے ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے دیت کنبے والوں پر ہوتی ہے، مگر میراث لڑکے اور اخیانی بھائیوں کو ملے گی جیسے عورت کے موالی (غلامان آزاد) کی میراث اس کے لڑکے کو ملے گی، اگرچہ اس کی قوم سے نہ ہو مگر اس کی جنایت کی دیت عورت کے کنبے والوں پر ہو گی۔