حدیث نمبر: 15
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، كَانَ يَقُولُ : " إِذَا فَاتَتْكَ الرَّكْعَةُ فَقَدْ فَاتَتْكَ السَّجْدَةُ "
علامہ وحید الزماں

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب قضا ہو جائے تیرا رکوع تو قضا ہوگیا سجدہ تیرا۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب وقوت الصلاة / حدیث: 15
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 15، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 556، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1552، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1123، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 2622، 2623، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2626، والبزار فى «مسنده» برقم: 6022، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 3361، 3374، والطبراني فى «الصغير» برقم: 562، شركة الحروف نمبر: 15، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 16» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ ابو سمیعہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب قضا ہو جائے تیرا رکوع تو قضا ہوگیا سجدہ تیرا۔ [موطا امام مالك: 15]
فائدہ:

یعنی اگر امام کے ساتھ رکوع نہ مل سکا تو بعد میں خواہ سجدہ مل بھی جائے۔ وہ سجدہ بھی کسی شمار میں نہ آئے گا اور تمھیں وہ رکعت دہرانا ہو گی، البتہ اگر رکوع میں امام کے ساتھ شریک ہو گئے تو پھر وہ رکعت شمار ہو جائے گی۔ اس بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مختلف فتاویٰ جات مروی ہیں، بعض رکعت کو شمار کرتے ہیں اور بعض شمار نہیں کرتے اور اگر احادیث مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جائے تو ان کی روشنی میں سورہ فاتحہ کے بغیر کوئی رکعت نہیں ہو تی۔ [والله اعلم]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 15 سے ماخوذ ہے۔