موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العقول— کتاب: دیتوں کے بیان میں
بَابُ دِيَةِ الْخَطَأِ فِي الْقَتْلِ باب: قتل خطاء کی دیت کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، وَرَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كَانُوا يَقُولُونَ : " دِيَةُ الْخَطَإِ عِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ ابْنَ لَبُونٍ ذَكَرًا، وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً " .ابن شہاب اور سلیمان بن یسار اور ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن کہتے ہیں: قتلِ خطاء کی دیت بیس بنت مخاض، اور بیس بنت لبون، اور بیس ابن لبون، اور بیس حقے، اور بیس جذعے ہیں۔
قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا : أَنَّهُ لَا قَوَدَ بَيْنَ الصِّبْيَانِ، وَإِنَّ عَمْدَهُمْ خَطَأٌ مَا لَمْ تَجِبْ عَلَيْهِمُ الْحُدُودُ وَيَبْلُغُوا الْحُلُمَ، وَإِنَّ قَتْلَ الصَّبِيِّ لَا يَكُونُ إِلَّا خَطَأً، وَذَلِكَ لَوْ أَنَّ صَبِيًّا وَكَبِيرًا قَتَلَا رَجُلًا حُرًّا خَطَأً كَانَ عَلَى عَاقِلَةِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصْفُ الدِّيَةِ .امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ نابالغ لڑکوں سے قصاص نہ لیا جائے گا، اگر وہ کوئی جنایت قصداً بھی کریں تو خطاء کے حکم میں ہوگی، ان سے دیت لی جائے گی جب تک کہ بالغ نہ ہوں، اور جب تک ان پر حدیں واجب نہ ہوں، اور احتلام نہ ہونے لگے، اسی واسطے اگر لڑکا کسی کو قتل کرے تو وہ قتلِ خطاء سمجھا جائے گا، اگر لڑکا اور ایک بالغ مل کر کسی کو خطاءً قتل کریں تو ہر ایک کے عاقلے پر آدھی دیت ہوگی۔
قَالَ مَالِك : وَمَنْ قُتِلَ خَطَأً فَإِنَّمَا عَقْلُهُ مَالٌ لَا قَوَدَ فِيهِ، وَإِنَّمَا هُوَ كَغَيْرِهِ مِنْ مَالِهِ يُقْضَى بِهِ دَيْنُهُ وَتَجُوزُ فِيهِ وَصِيَّتُهُ، فَإِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ تَكُونُ الدِّيَةُ قَدْرَ ثُلُثِهِ ثُمَّ عَفَا عَنْ دِيَتِهِ فَذَلِكَ جَائِزٌ لَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُ دِيَتِهِ جَازَ لَهُ مِنْ ذَلِكَ الثُّلُثُ إِذَا عَفَا عَنْهُ وَأَوْصَى بِهِامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص خطاءً قتل کیا جائے، اس کی دیت مثل اس کے اور اس کے مال کے ہوگی، اس سے اس کا قرض ادا کیا جائے گا، اور اس کی وصیتیں پوری کی جائیں گی، اگر اس کے پاس اتنا مال ہو جو دیت سے دوگنا ہو اور وہ دیت معاف کر دے تو درست ہے، اور اگر اتنا مال نہ ہو تو تہائی کے موافق معاف کر سکتا ہے، کیونکہ باقی وارثوں کا بھی حق ہے۔