موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العقول— کتاب: دیتوں کے بیان میں
بَابُ دِيَةِ الْخَطَأِ فِي الْقَتْلِ باب: قتل خطاء کی دیت کا بیان
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ أَجْرَى فَرَسًا فَوَطِئَ عَلَى إِصْبَعِ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ فَنُزِيَ مِنْهَا فَمَاتَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلَّذِي ادُّعِيَ عَلَيْهِمْ : " أَتَحْلِفُونَ بِاللَّهِ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا مَاتَ مِنْهَا ؟ " فَأَبَوْا وَتَحَرَّجُوا، وَقَالَ لِلْآخَرِينَ : أَتَحْلِفُونَ أَنْتُمْ ؟ فَأَبَوْا، فَقَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِشَطْرِ الدِّيَةِ عَلَى السَّعْدِيِّينَ " . ¤قَالَ مَالِك : وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَى هَذَاعراک بن مالک اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جو بنی سعد میں سے تھا، اپنا گھوڑا دوڑایا اور ایک شخص کی انگلی جو جہینہ کا تھا کچل دی، اس میں سے خون جاری ہوا اور وہ شخص مر گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پہلے کچلنے والے کی قوم سے کہا کہ تم پچاس قسمیں کھاتے ہو اس امر پر کہ وہ شخص انگلی کچلنے سے نہیں مرا؟ انہوں نے انکار کیا اور رک گئے۔ پھر میّت کے لوگوں سے کہا: تم قسم کھاتے ہو؟ انہوں نے بھی انکار کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے آدھی دیت بنی سعد سے دلائی۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔