حدیث نمبر: 1490
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ الثِّقَةِ عِنْدَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : أَبَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " أَنْ يُوَرِّثَ أَحَدًا مِنَ الْأَعَاجِمِ، إِلَّا أَحَدًا وُلِدَ فِي الْعَرَبِ " .
علامہ وحید الزماں

حضرت سعید بن مسیّب کہتے تھے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انکار کیا غیر ملک کے لوگوں کی میراث دلانے کا اپنے ملک والوں کو، مگر جو عرب میں پیدا ہوا ہو۔

قَالَ مَالِكٌ : وَإِنْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ حَامِلٌ مِنْ أَرْضِ الْعَدُوِّ، فَوَضَعَتْهُ فِي أَرْضِ الْعَرَبِ، فَهُوَ وَلَدُهَا، يَرِثُهَا إِنْ مَاتَتْ، وَتَرِثُهُ إِنْ مَاتَ، مِيرَاثَهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ . قَالَ مَالِكٌ : الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا، وَالسُّنَّةُ الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا، وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا : أَنَّهُ لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ بِقَرَابَةٍ، وَلَا وَلَاءٍ، وَلَا رَحِمٍ، وَلَا يَحْجُبُ أَحَدًا عَنْ مِيرَاثِهِ .
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر ایک عورت حاملہ کفار کے ملک میں سے آکر عرب میں رہے، اور وہاں (بچہ) جنے تو وہ اپنے لڑکے کی وارث ہوگی اور لڑکا اس کا وارث ہو گا۔

قَالَ مَالِكٌ : وَكَذَلِكَ كُلُّ مَنْ لَا يَرِثُ إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهُ وَارِثٌ، فَإِنَّهُ لَا يَحْجُبُ أَحَدًا عَنْ مِيرَاثِهِ
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے اور اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ مسلمان کافر کا کسی رشتہ کی وجہ سے وارث نہیں ہو سکتا، خواہ وہ رشتہ ناطے کا ہو یا ولاء کا یا قرابت کا، اور نہ کسی کو اس کی وراثت سے محروم کر سکتا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسی طرح جو شخص میراث نہ پائے وہ دوسرے کو محروم نہیں کر سکتا۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الفرائض / حدیث: 1490
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 18336، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31363، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19173، والدارمي فى «سننه» برقم: 3095، فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 14»