موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي النِّدَاءِ لِلصَّلَاةِ باب: اذان کے بیان میں
حدیث نمبر: 149
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ لَهُ : " إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ ، فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ ، فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ ، إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعلامہ وحید الزماں
حضرت عبداللہ بن عبدالرحمٰن انصاری سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تو بکریوں کو اور جنگل کو درست رکھتا ہے، تو جب جنگل میں ہو اپنی بکریوں میں، اذان دے نماز کی بلند آواز سے، کیونکہ نہیں پہنچتی آواز مؤذن کی نہ جن کو، نہ آدمی کو، اور نہ کسی شے کو، مگر وہ گواہ ہوتا ہے اس کا قیامت کے روز۔ کہا سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے: سنا میں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔