موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الفرائض— کتاب: ترکے کی تقسیم کے بیان میں
بَابُ مِيرَاثِ أَهْلِ الْمِلَلِ باب: ملت اور مذہب کا اختلاف ہو تو میراث نہیں ہے
حدیث نمبر: 1489
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، أَنَّ نَصْرَانِيًّا أَعْتَقَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، هَلَكَ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : " فَأَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ أَجْعَلَ مَالَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ " علامہ وحید الزماں
حضرت اسمعیل بن ابی حکیم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کا ایک غلام نصرانی تھا، اس کو انہوں نے آزاد کر دیا، وہ مر گیا تو عمر بن عبدالعزیز نے مجھ سے کہا کہ اس کا مال بیت المال میں داخل کر دو۔