موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الفرائض— کتاب: ترکے کی تقسیم کے بیان میں
بَابُ مِيرَاثِ أَهْلِ الْمِلَلِ باب: ملت اور مذہب کا اختلاف ہو تو میراث نہیں ہے
حدیث نمبر: 1487
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ : " إِنَّمَا وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ، عَقِيلٌ، وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ عَلِيٌّ، قَالَ : فَلِذَلِكَ تَرَكْنَا نَصِيبَنَا مِنَ الشِّعْبِ " علامہ وحید الزماں
حضرت علی بن حسین یعنی امام زین العابدین سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب ابو طالب مر گئے تو ان کے وارث عقیل اور طالب ہوئے(1)، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے وارث نہیں ہوئے(2)۔ علی بن حسین نے کہا: اسی واسطے ہم نے اپنا حصّہ مکہ کے گھروں میں سے چھوڑ دیا۔