موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الفرائض— کتاب: ترکے کی تقسیم کے بیان میں
بَابُ مِيرَاثِ الْجَدِّ باب: داداکی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 1477
عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الْجَدِّ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : إِنَّكَ كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي عَنِ الْجَدِّ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ، وَذَلِكَ مِمَّا لَمْ يَكُنْ يَقْضِي فِيهِ إِلَّا الْأُمَرَاءُ - يَعْنِي الْخُلَفَاءَ - وَقَدْ حَضَرْتُ الْخَلِيفَتَيْنِ قَبْلَكَ يُعْطِيَانِهِ، النِّصْفَ مَعَ الْأَخِ الْوَاحِدِ، وَالثُّلُثَ مَعَ الِاثْنَيْنِ، فَإِنْ كَثُرَتِ الْإِخْوَةُ لَمْ يُنَقِّصُوهُ مِنَ الثُّلُثِ.علامہ وحید الزماں
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے (خط) لکھا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اور پوچھا دادا کی میراث کے متعلق، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جواب لکھا کہ تم نے مجھ سے پوچھا دادا کی میراث کے متعلق، اور یہ وہ مسئلہ ہے جس میں خلفاء حکم کرتے تھے، میں حاضر تھا تم سے پہلے دو خلفاؤں کے سامنے (سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما) تو ایک بھائی کے ساتھ وہ دادا کو آدھا دلاتے تھے، اور دو بھائیوں کے ساتھ تہائی، اگر بہت بھائی بہن ہوتے تب بھی دادا کو تہائی سے کم نہ دلاتے۔