موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الرهون— کتاب: گروی رکھنے کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُؤَنَّثِ مِنَ الرِّجَالِ وَمَنْ أَحَقُّ بِالْوَلَدِ باب: جو مرد عورت کی مثل ہو (یعنی شہوت نہ رکھتا ہو) اس کا بیان اور لڑکے کا کون حقدار ہے ماں یا باپ
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ مُخَنَّثًا كَانَ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ الطَّائِفَ غَدًا، فَأَنَا أَدُلُّكَ عَلَى ابْنَةِ غَيْلَانَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُمْ " حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ایک مخنّث (جو خلقی نامرد تھا نام اس کا ہیت تھا) سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، اس نے عبداللہ بن امیہ سے کہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے تھے: اے عبداللہ! اگر کل اللہ جل جلالہُ تمہارے ہاتھ سے طائف کو فتح کرا دے تو تم غیلان کی بیٹی کو ضرور لینا، جب وہ سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بٹیں معلوم ہوتی ہیں، اور جب پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو چار کی آٹھ بٹیں معلوم ہوتی ہیں (دونوں جانب پہلو سے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔“