موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الرهون— کتاب: گروی رکھنے کے بیان میں
بَابُ جَوَازِ وَصِيَّةِ الصَّغِيرِ وَالضَّعِيفِ وَالْمُصَابِ وَالسَّفِيهِ باب: ضعیف اور کم سن اور مجنوں اور احمق کی وصیت کا بیان
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ " غُلَامًا مِنْ غَسَّانَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ، وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ فُلَانًا يَمُوتُ، أَفَيُوصِي ؟ قَالَ : " فَلْيُوصِ " . ¤ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَكَانَ الْغُلَامُ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ أَوِ اثْنَتَيْ عَشَرَةَ سَنَةً . قَالَ : فَأَوْصَى بِبِئْرِ جُشَمٍ، فَبَاعَهَا أَهْلُهَا بِثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ . ¤حضرت ابوبکر بن حزم سے روایت ہے کہ ایک لڑکا غسان کا مرنے لگا مدینہ میں، اور وارث اس کے شام میں تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر ہوا اور پوچھا گیا: کیا وصیت کرے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وصیت کرے۔ یحییٰ بن سعید نے کہا: وہ لڑکا دس برس کا تھا یا بارہ برس کا، اور بئر جشم (اس مال کا نام تھا) چھوڑ گیا اس کی وصیت کر گیا، لوگوں نے اسے تیس ہزار درہم کا بیچا۔
قَالَ يَحْيَى : سَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ : الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا، أَنَّ الضَّعِيفَ فِي عَقْلِهِ وَالسَّفِيهَ وَالْمُصَابَ الَّذِي يُفِيقُ، أَحْيَانًا تَجُوزُ وَصَايَاهُمْ إِذَا كَانَ مَعَهُمْ مِنْ عُقُولِهِمْ مَا يَعْرِفُونَ مَا يُوصُونَ بِهِ، فَأَمَّا مَنْ لَيْسَ مَعَهُ مِنْ عَقْلِهِ مَا يَعْرِفُ بِذَلِكَ مَا يُوصِي بِهِ وَكَانَ مَغْلُوبًا عَلَى عَقْلِهِ، فَلَا وَصِيَّةَ لَهُامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ ضعیف العقل اور نادان اور مجنوں کی جس کو کبھی آفاقہ ہوجاتا ہے، وصیت درست ہے، جب اتنی عقل رکھتے ہوں کہ وصیت جو کریں اس کو سمجھیں، اگر اتنی بھی عقل نہ ہو تو اس کی وصیت درست نہیں ہے۔