موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي النِّدَاءِ لِلصَّلَاةِ باب: اذان کے بیان میں
حدیث نمبر: 147
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر معلوم ہوتا لوگوں کو جو کچھ اذان دینے میں اور صفِ اوّل میں ثواب ہے، پھر نہ پا سکتے ان کو بغیر قرعہ کے البتہ قرعہ ڈالتے، اور اگر معلوم ہوتا لوگوں کو جو کچھ نماز کے اوّل وقت پڑھنے میں ثواب ہے البتہ جلدی کرتے اس کی طرف، اور اگر معلوم ہوتا جو کچھ ثواب ہے عشا اور صبح کی نماز باجماعت پڑھنے کا البتہ آتے جماعت میں گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے۔“