موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الرهون— کتاب: گروی رکھنے کے بیان میں
بَابُ الْقَضَاءِ فِي الضَّوَالِّ باب: جو جانور مالک کے پاس سے گم ہو گئے ہوں اس کا بیان
حدیث نمبر: 1464
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ ، يَقُولُ : " كَانَتْ ضَوَالُّ الْإِبِلِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِبِلًا مُؤَبَّلَةً تَنَاتَجُ لَا يَمَسُّهَا أَحَدٌ، حَتَّى إِذَا كَانَ زَمَانُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ " أَمَرَ بِتَعْرِيفِهَا ثُمَّ تُبَاعُ، فَإِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا أُعْطِيَ ثَمَنَهَا " علامہ وحید الزماں
حضرت ابن شہاب کہتے تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جو اونٹ گمے ہوئے ملتے تھے وہ چھوڑ دیئے جاتے تھے، بچے جنا کرتے تھے، کوئی ان کو نہ لتیا تھا، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ ہوا، انہوں نے حکم کیا کہ بتائے جائیں پھر بیچ کر ان کی قیمت بیت المال میں رکھی جائے، جب مالک آئے تو اس کو دے دی جائے۔