حدیث نمبر: 1454
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " مَا بَالُ رِجَالٍ يَنْحَلُونَ أَبْنَاءَهُمْ نُحْلًا ثُمَّ يُمْسِكُونَهَا، فَإِنْ مَاتَ ابْنُ أَحَدِهِمْ، قَالَ : مَا لِي بِيَدِي لَمْ أُعْطِهِ أَحَدًا، وَإِنْ مَاتَ هُوَ، قَالَ : هُوَ لِابْنِي قَدْ كُنْتُ أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ، مَنْ نَحَلَ نِحْلَةً فَلَمْ يَحُزْهَا الَّذِي نُحِلَهَا حَتَّى يَكُونَ إِنْ مَاتَ لِوَرَثَتِهِ فَهِيَ بَاطِلٌ "
علامہ وحید الزماں

حضرت عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا حال ہے لوگوں کا کہ ہبہ کرتے ہیں اپنے بیٹوں کو پھر روک لیتے ہیں، اگر بیٹا مر جاتا ہے تو کہتے ہیں: میرا مال میرے قبضے میں ہے کسی کو نہیں دیا، اگر باپ مر جاتا ہے تو کہہ جاتا ہے کہ وہ میرے بیٹے کا ہے اس کو میں ہبہ کر چکا ہوں، جو کوئی ہبہ کرے اور اس کو نافذ نہ کرے، یعنی موہوب لہُ اس پر قبضہ نہ کرے اس طرح سے کہ جب موہوب لہُ مرے تو وہ اس کے وارثوں کو ملے، تو وہ ہبہ باطل ہے۔

قَالَ مَالِكٌ : الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ أَعْطَى أَحَدًا عَطِيَّةً لَا يُرِيدُ ثَوَابَهَا، فَأَشْهَدَ عَلَيْهَا. فَإِنَّهَا ثَابِتَةٌ لِلَّذِي أُعْطِيَهَا. إِلَّا أَنْ يَمُوتَ الْمُعْطِي قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَهَا الَّذِي أُعْطِيَهَا. قَالَ : وَإِنْ أَرَادَ الْمُعْطِي إِمْسَاكَهَا بَعْدَ أَنْ أَشْهَدَ عَلَيْهَا. فَلَيْسَ ذَلِكَ لَهُ. إِذَا قَامَ عَلَيْهِ بِهَا صَاحِبُهَا، أَخَذَهَا. ¤
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص ثواب کے واسطے کسی کو کوئی شئے دے، اس کا عوض نہ چاہتا ہو اور لوگوں کو اس پر گواہ کر دے، تو وہ نافذ ہوجائے گا، مگر جب دینے والا مرجائے معطیٰ لہُ کے قبضے سے پہلے۔ اگر دینے والا یہ چاہے کہ بعد دینے کے اس کو رکھ چھوڑے تو یہ نہیں ہو سکتا، معطیٰ لہُ جب چاہے تو جبراً اس سے لے سکتا ہے۔

قَالَ مَالِكٌ : وَمَنْ أَعْطَى عَطِيَّةً. ثُمَّ نَكَلَ الَّذِي أَعْطَاهَا. فَجَاءَ الَّذِي أُعْطِيَهَا بِشَاهِدٍ يَشْهَدُ لَهُ أَنَّهُ أَعْطَاهُ ذَلِكَ. عَرْضًا كَانَ أَوْ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا أَوْ حَيَوَانًا. أُحْلِفَ الَّذِي أُعْطِيَ مَعَ شَهَادَةِ شَاهِدِهِ. فَإِنْ أَبَى الَّذِي أُعْطِيَ أَنْ يَحْلِفَ، حُلِّفَ الْمُعْطِي. وَإِنْ أَبَى أَنْ يَحْلِفَ أَيْضًا، أَدَّى إِلَى الْمُعْطَى مَا ادَّعَى عَلَيْهِ. إِذَا كَانَ لَهُ شَاهِدٌ وَاحِدٌ. فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَاهِدٌ، فَلَا شَيْءَ لَهُ. ¤
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر زید نے عمرو کو ایک شئے اللہ واسطے دی، بعد اس کے زید مرگیا عمرو ایک گواہ لے کر آیا، تو عمرو کو قسم کھانی پڑے گی، اگر وہ قسم کھا لے گا تو ایک گواہی اور ایک قسم پر وہ شئے عمرو کو دلا دیں گے، اگر عمرو نےقسم سے انکار کیا تو زید سے قسم لیں گے، اگر زید نےقسم کھانے سے انکار کیا تو وہ شئے دینی پڑے گی، جب عمرو کے پاس ایک گواہ بھی ہو، اگر ایک بھی گواہ نہ ہو تو عمرو کا صرف دعویٰ مسموع نہ ہوگا۔

قَالَ مَالِكٌ : مَنْ أَعْطَى عَطِيَّةً لَا يُرِيدُ ثَوَابَهَا ثُمَّ مَاتَ الْمُعْطَى، فَوَرَثَتُهُ بِمَنْزِلَتِهِ، وَإِنْ مَاتَ الْمُعْطِي، قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الْمُعْطَى عَطِيَّتَهُ، فَلَا شَيْءَ لَهُ. وَذَلِكَ أَنَّهُ أُعْطِيَ عَطَاءً لَمْ يَقْبِضْهُ. فَإِنْ أَرَادَ الْمُعْطِي أَنْ يُمْسِكَهَا، وَقَدْ أَشْهَدَ عَلَيْهَا حِينَ أَعْطَاهَا، فَلَيْسَ ذَلِكَ لَهُ، إِذَا قَامَ صَاحِبُهَا أَخَذَهَا.
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے ایک شئے اللہ واسطے دی، پھر معطیٰ لہُ قبل قبضے کے مر گیا، تو اس کے وارث اس کے قائم مقام ہوں گے، اگر دینے والا قبل معطیٰ لہُ کے قبضے کے مر گیا تو اب اس کو کچھ نہ ملے گا، کیونکہ قبضہ نہ ہونے کے سبب سے وہ ہبہ لغو ہوگیا، اگر دینے والا اس کو روک رکھے اور ہبہ پر گواہ نہ ہوں تو یہ نہیں ہوسکتا، جب معطیٰ لہُ لینے کو کھڑا ہو جائے تو لے سکتا ہے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الرهون / حدیث: 1454
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 11949، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3782، 3784، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16509، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 20117، فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 41»