موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الرهون— کتاب: گروی رکھنے کے بیان میں
بَابُ الْقَضَاءِ فِي قَسْمِ الْأَمْوَالِ باب: تقسیم کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : بَلَغَنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " أَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ قُسِمَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَهِيَ عَلَى قَسْمِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ أَدْرَكَهَا الْإِسْلَامُ وَلَمْ تُقْسَمْ، فَهِيَ عَلَى قَسْمِ الْإِسْلَامِ " .حضرت ثور بن زید دیلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو زمین یا مکان جاہلیت کے زمانے میں تقسیم ہو چکا ہے وہ اسی طور پر رہے گا، البتہ جو مکان یا زمین اسلام کے زمانے تک تقسیم نہیں ہوئی تو وہ اسلام کے قاعدوں کے موافق تقسیم ہوگی۔“
قَالَ يَحْيَى : سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ، فِيمَنْ هَلَكَ وَتَرَكَ أَمْوَالًا بِالْعَالِيَةِ وَالسَّافِلَةِ : إِنَّ الْبَعْلَ لَا يُقْسَمُ مَعَ النَّضْحِ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَهْلُهُ بِذَلِكَ، وَإِنَّ الْبَعْلَ يُقْسَمُ مَعَ الْعَيْنِ إِذَا كَانَ يُشْبِهُهَا، وَأَنَّ الْأَمْوَالَ إِذَا كَانَتْ بِأَرْضٍ وَاحِدَةٍ الَّذِي بَيْنَهُمَا مُتَقَارِبٌ، أَنَّهُ يُقَامُ كُلُّ مَالٍ مِنْهَا، ثُمَّ يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ وَالْمَسَاكِنُ وَالدُّورُ بِهَذِهِ الْمَنْزِلَةِامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر ایک شخص مر جائے اور بارانی اور چاہی زمینیں چھوڑ جائے، تو بارانی کو چاہی کے ساتھ ملا کر تقسیم نہ کریں گے، بلکہ جدا جدا تقسیم کریں گے، (کیونکہ بارانی کا لگان دسواں حصّہ اور چاہی کا بیسواں حصّہ پیداوار کا)، مگر جب سب شریک ملا کر تقسیم کرنے پر راضی ہوجائیں تو ملا کر تقسیم کردیں گے، البتہ بارانی اور زیر تالاب یا کاریز کو ملا کر تقسیم کردیں گے، (کیونکہ ان کا دھارا ایک ہے، یعنی دونوں قسموں کی زمینوں کا لگان پیداوار کا دسواں حصّہ ہے)، اسی طرح اگر کسی قسم کا مال ہوں ایک ہی جگہ اور ایک دوسرے کے مشابہ ہوں، تو ہر ایک مال کی قیمت لگا کر ایک ساتھ تقسیم کردیں گے، مکانوں اور گھروں کا بھی یہی حکم ہے۔