موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الرهون— کتاب: گروی رکھنے کے بیان میں
بَابُ الْقَضَاءِ بِإِلْحَاقِ الْوَلَدِ بِأَبِيهِ باب: لڑکے کو باپ سے ملانے کا بیان
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، أَنّ " امْرَأَةً هَلَكَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاعْتَدَّتْ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، ثُمَّ تَزَوَّجَتْ حِينَ حَلَّتْ فَمَكَثَتْ عِنْدَ زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَنِصْفَ شَهْرٍ، ثُمَّ وَلَدَتْ وَلَدًا تَامًّا، فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَدَعَا عُمَرُ نِسْوَةً مِنْ نِسَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ قُدَمَاءَ، فَسَأَلَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : أَنَا أُخْبِرُكَ عَنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ، هَلَكَ عَنْهَا زَوْجُهَا حِينَ حَمَلَتْ مِنْهُ، فَأُهْرِيقَتْ عَلَيْهِ الدِّمَاءُ، فَحَشَّ وَلَدُهَا فِي بَطْنِهَا، فَلَمَّا أَصَابَهَا زَوْجُهَا الَّذِي نَكَحَهَا وَأَصَابَ الْوَلَدَ الْمَاءُ تَحَرَّكَ الْوَلَدُ فِي بَطْنِهَا وَكَبِرَ . فَصَدَّقَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ عُمَرُ : " أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْنِي عَنْكُمَا إِلَّا خَيْرٌ "، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْأَوَّلِ حضرت عبداللہ بن ابی امیہ سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خاوند مر گیا تو اس نے چار مہینے دس دن تک عدت کی، پھر دوسرے شخص سے نکاح کر لیا، ابھی اس کے پاس ساڑھے چار مہینے رہی تھی کہ ایک لڑکا جنا خاصا پورا، تو اس کا خاوند سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے یہ حال بیان کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پرانی پرانی چند عورتوں کو جو جاہلیت کے زمانے میں تھیں، بلوایا اور ان سے پوچھا، ان میں سے ایک عورت بولی: میں تم کو اس عورت کا حال بتاتی ہوں، یہ حاملہ ہوگئی تھی اپنے پہلے خاوند سے جو مر گیا، تو حیض کا خون بچے پر پڑتے پڑتے وہ بچہ سوکھ گیا تھا اس کے پیٹ میں، تو جب اس نے دوسرا نکاح کیا، مرد کی منی پہنچنے سے پھر بچے کو حرکت ہوئی اور بڑا ہو گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی تصدیق کی اور نکاح توڑ ڈالا، اور فرمایا کہ خیر ہوئی تمہاری کوئی بری بات مجھے نہیں پہنچی، اور لڑکے کا نسب پہلے خاوند سے ثابت کیا۔