موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الرهون— کتاب: گروی رکھنے کے بیان میں
بَابُ الْقَضَاءِ فِيمَنِ ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ باب: مرتد کے حکم کا بیان
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَجُلٌ مِنْ قِبَلِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَسَأَلَهُ عَنِ النَّاسِ، فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ عُمَرُ : " هَلْ كَانَ فِيكُمْ مِنْ مُغَرِّبَةِ خَبَرٍ ؟ " فَقَالَ : نَعَمْ، رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ " . قَالَ : فَمَا فَعَلْتُمْ بِهِ ؟ قَالَ : قَرَّبْنَاهُ فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ . فَقَالَ عُمَرُ : " أَفَلَا حَبَسْتُمُوهُ ثَلَاثًا وَأَطْعَمْتُمُوهُ كُلَّ يَوْمٍ رَغِيفًا وَاسْتَتَبْتُمُوهُ لَعَلَّهُ يَتُوبُ وَيُرَاجِعُ أَمْرَ اللَّهِ " . ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي لَمْ أَحْضُرْ، وَلَمْ آمُرْ، وَلَمْ أَرْضَ إِذْ بَلَغَنِي " محمد بن عبداللہ بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا، سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سے (یعنی یمن کی طرف سے)، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے وہاں کے لوگوں کا حال پوچھا، اس نے بیان کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کو کوئی نادر چیز معلوم ہے؟ وہ شخص بولا: ہاں، ایک شخص کافر ہو گیا تھا بعد اسلام کے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ وہ شخص بولا: ہم نے اسے پکڑا اور اس کی گردن ماری۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے اس کو تین دن تک قید کیا ہوتا اور ہر روز روٹی دی ہوتی، پھر توبہ کروائی ہوتی تو شاید وہ توبہ کرتا، اور پھر اللہ کا حکم مان لیتا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا اللہ! میں اس وقت وہاں موجود نہ تھا، نہ میں نے حکم کیا، نہ میں خوش ہوا جب کہ مجھے معلوم ہوا۔