موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الأقضية— کتاب: حکموں کے بیان میں
بَابُ الْقَضَاءِ فِي شَهَادَةِ الصِّبْيَانِ باب: لڑکوں کی گواہی کا بیان
حدیث نمبر: 1423
قَالَ يَحْيَى : قَالَ مَالِك : عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ " يَقْضِي بِشَهَادَةِ الصِّبْيَانِ، فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنَ الْجِرَاحِ " .علامہ وحید الزماں
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ لڑکوں کی گواہی پر حکم کرتے تھے ان کے آپس کی مار پیٹ کے۔
قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا، أَنَّ شَهَادَةَ الصِّبْيَانِ تَجُوزُ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنَ الْجِرَاحِ، وَلَا تَجُوزُ عَلَى غَيْرِهِمْ، وَإِنَّمَا تَجُوزُ شَهَادَتُهُمْ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنَ الْجِرَاحِ وَحْدَهَا لَا تَجُوزُ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقُوا أَوْ يُخَبَّبُوا أَوْ يُعَلَّمُوا، فَإِنِ افْتَرَقُوا فَلَا شَهَادَةَ لَهُمْ إِلَّا أَنْ يَكُونُوا قَدْ أَشْهَدُوا الْعُدُولَ عَلَى شَهَادَتِهِمْ قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقُواعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ لڑکے لڑ کر ایک دوسرے کو زخمی کریں تو ان کی گواہی درست ہے، لیکن لڑکوں کی گواہی اور مقدمات میں درست نہیں ہے، یہ بھی جب درست ہے کہ لڑ لڑا کر جدا نہ ہو گئے ہوں مگر نہ کیا ہو، اگر جدا جدا چلے گئے ہوں تو پھر ان کی گواہی درست نہیں ہے، مگر جب عادل لوگوں کو اپنی شہادت پر شاہد کر گئے ہوں۔