موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب كراء الأرض— کتاب: زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ باب: زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
حدیث نمبر: 1407
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّهُ كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ " . وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ أَكْرَى مَزْرَعَتَهُ بِمِائَةِ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنَ الْحِنْطَةِ أَوْ مِنْ غَيْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ؟ فَكَرِهَ ذَلِكَعلامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن الزبیر اپنی زمین کو کرایہ پر دیتے تھے چاندی یا سونے کے بدلے میں۔
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا: کوئی شخص اپنی زمین کرایہ پر دے اس شرط سے کہ جب اس میں کھجور یا گیہوں یا اور کوئی چیز پیدا ہوگی تو اس قدر لوں گا، مثلاً سو صاع؟ امام مالک رحمہ اللہ نے اس کو مکروہ جانا۔