موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب كراء الأرض— کتاب: زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ باب: زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
حدیث نمبر: 1405
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ " كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ بِهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَقُلْتُ لَهُ : أَرَأَيْتَ الْحَدِيثَ الَّذِي يُذْكَرُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ؟ فَقَالَ : أَكْثَرَ رَافِعٌ، وَلَوْ كَانَ لِي مَزْرَعَةٌ أَكْرَيْتُهَاعلامہ وحید الزماں
ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے پوچھا کہ کھیتوں کا کرایہ دینا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: کچھ قباحت نہیں سونے یا چاندی کے بدلے میں۔ ابن شہاب نے کہا: کیا تم کو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث نہیں پہنچی؟ سالم نے کہا: رافع نے زیادتی کی، اگر میرے پاس زمین مزروعہ ہوتی تو میں اس کو کرایہ پر دیتا۔